31 - سورة لقمان (مکیہ)

رکوع - 4 آیات - 34

مضمون: قرآن کی دعوت فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور صحیح فکر و دانش رکھنے والے حکیم لوگ بھی یہی دعوت دیتے رہے ہیں۔ لہذا عقل سلیم اس دعوت کے حق میں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: سب سے بڑی حکمت ،جذبۂ شکرہے۔اسی سے توحید کا راستہ ملتاہے۔ توحید عدل اور شرک ظلم عظیم ہے ۔دلائل توحید کے ساتھ آبا پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔کیونکہ یہی شرک کی بنیادہے۔

شانِ نزول:  چار سورتیں ، العنکبوت، الروم، لقمان اور السجدہ ہجرت حبشہ (5 سن نبوی) سے پہلے نازل ہوئیں۔

نظمِ کلام: سورۂ فرقان

ترتیب مطالعۂ: (i)ر۔1(سورۂ بقرہ سے مشابہ تمہید اور قرآن کے دو مخاطب طبقے) (اللہ کی آیتوں پر عمل کرنے والے اور بے ہودہ قصے خرید کرلانے والے۔نضر بن حارث)۔(ii)ر۔2( حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں)(iii)ر3/4(اسلام ایک عقلی اور فکری تقاضا، آیات الٰہی اور آخرت۔)

حضرت لقمان کا تعارف: سلیم العقل اور سلیم الفطرت ۔۔۔حضرت ایوب ؑ کے بھتیجے یا بھانجے ۔۔۔افریقی حبشی ۔۔۔بڑھئی۔۔۔نہ نبی نہ کسی نبی کے امتی۔۔۔عرب کے ادبِ عالیہ میں ان کے نصائح۔بعض کے پاس اس کا پندنامہ۔

فلاح کا قرآنی تصور معلوم کرنے کے لیے حسب ذیل آیات کو تفہیم القرآن کے تشریحی حواشی کے ساتھ بغور دیکھنا چاہئے:البقرہ(2۔5)آلِ عمران(102، 130، 200)،المائدہ(35، 90)،الانعام(21)،الاعراف(7، 8، 157)، التوبہ(88)یونس(17)،النحل(116)،الحج(77)، المؤمنون(1، 117)،النور(51) اور الروم(38)(تفہیم القرآن)


پہلا رکوع

الٓمّٓۚ  ﴿1﴾ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ  ﴿2﴾ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ  ﴿3﴾ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ  ﴿4﴾ اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿5﴾ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ﴿6﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ﴿7﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ  ﴿8﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿9﴾ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ ﴿10﴾ هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠   ۧ ۧ ﴿11ع لقمان 31﴾
1. الٓمٓ۔ 2. یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں۔ 3. نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 4. جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔ 5. یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں۔ 6. اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بیہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے رستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزاء کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔ 7. اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اُن کو سنا ہی نہیں جیسے اُن کے کانوں میں ثقل ہے۔ تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو۔ 8. جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں۔ 9. ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 10. اُسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے تاکہ تم کو ہلا ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے۔ اور ہم ہی نے آسمانوں سے پانی نازل کیا پھر (اُس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اُگائیں۔ 11. یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں اُنہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔

تفسیر آیات

1۔ پہلے رکوع کی ابتدائی آیات ۔سورۂ بقرہ سے مشابہت ۔

4۔ اس آیت میں زکوٰۃ کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ اصل زکوٰۃ کا حکم مکہ معظمہ میں ہجرت سے پہلے ہی آچکا تھا ۔ بعد میں مدینہ میں نصاب،مصارف اور حکومت کی وصولی کے احکام سنہ 2 ھ میں نازل ہوئے ۔معلوم ہواکہ جس طرح قرآن حکیم میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا ذکر ساتھ ساتھ ہواہے اس کی فرضیت بھی ساتھ ساتھ ہی ہوئی ۔(معارف القرآن)

ــــ علما نے مومنین کے جو درجات بیان کیے ہیں وہ اس طرح ہیں (i)مسلم،(ii)مومن،(iii)متقی،(iv)محسن۔(مرتب)

لَهْوَ الْحَدِیْثِ۔غنا کے باب میں محدثین و فقہاء کے اقوال مختلف ہیں ۔جو گانا بطورپیشہ یا مستقل عادت کے نہیں، بلکہ محض دل بہلانے، تفریح یا تفنن یا باصطلاح فقہاء دفع و حشت نفس کے لیے کبھی کبھی ہو، اس میں مضائقہ فقہائے حنفیہ کے ہاں بھی نہیں۔۔۔ موسیقی کا شمار آج فنون لطیفہ میں جس شد و مد سے بھی ہو، غنا پر حکم حرمت و کراہت تحریمی کا تو اکثر ہی فقہاء و محدثین بلکہ تابعین نے لگایا ہے،اقوال کا بڑا ذخیرہ تفسیر قرطبی و تفسیر ابن کثیر میں ملے گا۔۔۔۔۔اور اگر اس میں کلام حکیمانہ اور مضامین اخلاق و معرفت کے ہوں، تو بالکل جائز ہے۔۔۔۔۔آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہاں ذکر ایسے لہو و لعب کا ہے جو دین حق سے روکنے والے ہوں اور ان کا اثر دوسروں تک متعدی ہورہاہو،بلکہ دین حق کی طرف سے بے رغبتی اور تحقیر دلوں میں پیدا کردینے والے ہوں،ظاہر ہے کہ ایسا مشغلہ اگر کفر نہیں تو قریب بہ کفر کے درجہ تک تو پہنچ ہی جائے گا،اور اس کی تائید شانِ نزول کی روایتوں سے بھی ہوتی ہے،جاہلیت میں کوئی "قابل و فاضل"شخص نضر بن الحارث بن کلدہ نامی تھا۔ آس پاس کے ملکوں کا سیاح، وہاں سے جاہلی "لٹریچر"کی اعلیٰ درجہ کی کتابیں لاتا،انہیں لاکر اہل عرب کوسناتا۔ایران کے بہادروں کے افسانے، حیرہ کے بادشاہوں کے قصے پڑھ کر سناتا،اور کہتا جی اس دلچسپ لٹریچر میں لگاؤ،قرآن کے وعظ میں کیا رکھا ہے۔ہمراہ کوئی حسین چھوکری بھی کرلیتا،اور تشویق مزید کے لیے شراب و کباب کے ساتھ اس کی پیش کش بھی کرتارہتا۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اس میں ہر اس گانے کی حرمت آگئی،جو عملاً دین سے غفلت کی طرف لے جانے والا ہو، یا اعتقاداً موجب ضلال ہو،اور قول فیصل یہ ہے کہ جو ان دونوں باتوں سے مبّرا ہو،اس کا یہ حکم نہیں  ہے۔(تھانوی،ج2/267)۔۔۔۔۔اس عذاب  کا اصل ظہور تو آخرت ہی میں ہوگا،لیکن دنیا میں بھی ایک طرح اس کا ظہور مشاہدہے ،بھانڈ، نقال، گوئیے،ڈوم،میراثی، کسبیاں، نچنیے،طبلچی غرض تمام طبقے لھو الحدیث سے تعلق رکھنے والے دنیا میں بھی حقیر و رسوا ہی رہتے ہیں،تاآنکہ کوئی معاشرہ مسخ ہوکر انھی کے رنگ میں رنگ جائے،اور خود ہی فسق پیشہ بن جائے۔(تفسیر ماجدی)

10۔ لفظ سماء کے مختلف معانی: سات زمینوں کی تخلیق:۔ سماء کا لفظ بلندی کے لئے بھی استعمال ہوتاہے یعنی ہر چیز جو ہمارے سرپر سایہ فگن ہو وہ سماء ہے۔ سماء کی ضد ارض ہے جس کے معنی زمین بھی ہے اور پستی بھی۔ اور یہ دونوں الفاظ اسمائے نسبیہ میں سے ہیں۔یعنی ایک ہی چیز اپنے سے پست چیز کے مقابلہ میں ارض بھی۔ یعنی ہماری زمین ارض ہے تو پہلا آسمان اس کے مقابلہ میں سماء ہے۔اور یہی پہلا آسمان دوسرے آسمان کے مقابلہ میں ارض ہے اور تیسرے آسمان کے مقابلہ میں دوسرا آسمان ارض (نمبر3)ہوئی۔گویا اس لحاظ سے سات آسمانوں کے مقابلہ سات زمینیں بھی آگئیں جیساکہ ارشاد باری ہے ۔"اللہ الذی خلق سبع سمٰوٰت ومن الارض مثلھن"(65: 12)یعنی اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اور ویسی ہی زمینیں پیدا کیں۔۔۔۔۔جدید تحقیق کے مطابق جانداروں کی دس لاکھ انواع کا علم انسان کو حاصل ہوچکا ہے اور اسی طرح دو لاکھ کے لگ بھگ نباتات کی انواع کا۔ جاندار وں کی طرح نباتات ،پودوں اور درختوں میں نر اور مادہ موجود ہوتے ہیں اور ان معاملات میں جتنی بھی تحقیق ہورہی ہے زیادہ سے زیادہ عجائبات قدرت یا اللہ کی نشانیاں انسان کے علم میں آرہی ہیں۔(تیسیر القرآن)

11۔  ایک ماہر جرمن سائنٹسٹ  نے آج سے 60 -65 برس پہلے کہا تھا کہ انسانی آنکھ کی ساخت ایسی ناقص ہے کہ کوئی انسان اگر اس کا خالق ہو توا سے شرم آتی !ایک سادہ مسلمان نے اسی وقت سوال کیا کہ کیا پھر اس سائنٹسٹ نے کوئی آنکھ اس سے بہتر خلق فرمائی؟(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ ﴿12﴾ وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ﴿13﴾ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ ﴿14﴾ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿15﴾ یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ﴿16﴾ یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ  ﴿17﴾ وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ  ﴿18﴾ وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠   ۧ ۧ ﴿19ع لقمان 31﴾
12. اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی۔ کہ خدا کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے۔ 13. اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے۔ 14. اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ 15. اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا۔ 16. (لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں۔ خدا اُس کو قیامت کے دن لاموجود کرے گا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے۔ 17. بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ 18. اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا۔ 19. اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے۔

تفسیر آیات

12- شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معقول بات آج کوئی پہلی مرتبہ تمہارے سامنے پیش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پہلے بھی عاقل و دانا لوگ یہی بات کہتے رہے ہیں اور تمہارا اپنا مشہور حکیم، لقمان اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔ ۔۔۔۔ لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی۔ شعرائے جاہلیت، مثلاً امراؤ القیس، لَبِید، اَعْشیٰ ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے ان کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اولین شخص جو نبی ﷺ سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا۔ وہاں حضور ﷺ اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوت اسلام دیتے پھر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں سوید نے جب نبی ﷺ کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان۔ پھر آپ ﷺ کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپ ﷺ کو سنایا۔ آپ ؐ نے فرمایا یہ بہت اچھا کلام ہے، مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے ۔(سیر ۃ ابن ہشام، ج 2، ص 67۔ 69۔ اُسُد الغابہ، ج 2، صفحہ:378) مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص (سُوَید بن صامت) مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر " کامل " کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن نبی ﷺ سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدت بعد جنگ بعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضور ﷺ سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔ حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے۔۔۔۔اور یہی شکر تمام حقوق اللہ اور تمام حقوق العباد کی معرفت کی بنیاد ہے۔۔۔۔۔اگر یہ چیز نہ ہو تو وہ بالکل کھوکھلا ہے، اگرچہ وہ علم و فلسفہ کا کتنا ہی بڑا ماہر اور امام کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔۔۔۔۔۔۔ (تدبر قرآن)

۔حضرت لقمان کا ذکر عرب لٹریچر میں ایک حکیم  کی حیثیت سے ہواہے جن کو یمن میں اپنے قبیلہ کی سرداری حاصل تھی۔معلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے بعد بیٹے کو سرداری کی ذمہ داریاں سونپتے وقت جو نصیحتیں کیں انکو قرآن نے یہاں بیان کیا ہے۔مقصد یہ بتاناہے کہ جن باتوں کی تعلیم قرآن دے رہاہے یہی باتیں تمہارے اسلاف میں سے وہ لوگ بھی پیش کرتے رہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی حکمت و معرفت میں سے کچھ حصہ ملا ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)

۔۔۔کلام جاہلیت میں ایک نہیں، اس نام کے تین تین شخصوں کا ذکر ملتاہے، ان میں سے لقمان ثانی کا لقب لقمان حکیم مشہور ہے، عجب نہیں کہ قرآن مجید کا اشارہ انہی کی جانب ہو۔ ان سے متعلق روایات تاریخی میں آتاہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ کے ہم عصر تھے، ملک حبشہ یا سوڈان کے رہنے والے تھے، اور ایک آزاد شدہ غلام تھے۔۔۔۔بعض اکابران کی نبوت کے بھی قائل ہوئے ہیں ، لیکن مسلک جمہوریہ ہے کہ نبی نہ تھے۔(تفسیر ماجدی)

13۔ جس طرح حکمت کا اولین ثمر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے اسی طرح شکر کی اصل روح شرک سے اجتناب ہے ۔ اللہ کا حق سب سے بڑا ہے ۔اگر کوئی شخص خدا کے حق میں دوسروں کو شریک کرتاہے تو وہ سب سے بڑئے حق کو تلف کرنے والا بنتاہے جو ظلم عظیم ہے۔ (تدبرِ قرآن)

14-15۔ اللہ کی طرف سے تضمین ۔ حضرت لقمان اپنا حق چھوڑ کر آخرت کی طرف بڑھ گئے ۔(تدبر قرآن)

14۔حدیث جریج: ۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: تین بچوں کے سوا کسی نے مہد میں کلام نہیں کیا۔ عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج۔جریج ایک عابد تھا۔ جس نے ایک عبادت خانہ بنارکھا تھا ایک دن اس کی ماں آئی اور وہ نماز پڑھ رہاتھا۔ ماں نے کہا: اے جریج! اس نے دل میں کہا یا اللہ!ایک طرف ماں ہے اور ایک طرف نماز ۔وہ نماز میں لگارہا۔ حتیٰ کہ اس کی ماں واپس چلی گئی۔دوسرے دن پھر اس کی ماں آئی اور پکارا اے جریج! اس نے دل میں کہا: یا اللہ! ایک طرف ماں ہے اور ایک طرف نماز ، آخر وہ نماز میں ہی لگا رہا۔(اب اس کی ماں کے منہ سے بددعانکل گئی)کہنے لگی "یا اللہ اسے موت نہ دینا جب تک یہ کسی بدکار عورت کا منہ نہ دیکھ لے"بنی اسرائیل میں جریج اور اس کی عبادت کا چرچا ہونے لگا ۔ان میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی کی مثال دی جاتی تھی۔وہ کہنے لگی: اگر تم چاہتے ہو تو میں اسے پھنساؤں؟ چنانچہ اس نے اپنے آپ کو جریج پر پیش کیا لیکن وہ اسکی طرف متوجہ نہ ہوا۔پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس عبادت خانہ کے پاس ٹھہراکرتاتھا اور اس نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیا۔چنانچہ چرواہے نے اس سے صحبت کی تو وہ حاملہ ہوگئی۔پھر جب بچہ پیدا ہواتو کہنے لگی"یہ جریج کا بچہ ہے"لوگ آئے :اسے عبادت خانہ سے نکالا اور اسے گرادیا اوراس کی پٹائی کرنے لگے۔جریج نے پوچھا :کوئی بات تو بتاؤ؟وہ کہنے لگے:تونے اس فاحشہ سے زناکیا اور اب تو اس کے بچہ بھی پیدا ہوچکا ہے جریج نے کہا:"وہ بچہ کہاں ہے؟"لوگ بچہ لے آئے تو جریج نے کہا:ذرا ٹھہرو! میں نماز  پڑھ لوں۔پھر وہ نماز سے فارغ ہوکر بچہ کے پاس آیا۔اس کے پیٹ میں کچوکا دیا اور کہا: بچے! بتاؤ! تمہارا باپ کون ہے؟بچہ بول اٹھا فلاں چرواہا ہے۔پھر تو لوگ جریج کے پاس آکر اسے بوسے دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارے لئے سونے کا عبادت خانہ بنادیتے ہیں۔جریج نے کہا:نہیں بس ایسا ہی مٹی کا بنادو"چنانچہ انہوں نے عبادت خانہ بنایا۔تیسرے بنی اسرائیل میں ایک عورت جو اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی ادھر سے ایک نہایت خوش وضع سوارگزرا وہ عورت اس سوار کو دیکھ کر کہنے لگی: یااللہ! میرے بچے کو اس سوار جیسابنادے" بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر کہا :"یا اللہ ! مجھے ایسا نہ بنانا"پھر وہ دودھ پینے لگا۔پھر وہاں سے ایک لونڈی گزری(جسے لوگ مارتے  جاتے تھے)وہ عورت کہنے لگی"یا اللہ میرے بیٹے کوایسانہ بنانا "بچے نے چھاتی چھوڑدی اور بول اٹھا! یا اللہ! مجھے ایسا ہی بنانا"ماں  نے اپنے بچے سے کہا کہ تو ایسا کیوں کہتاہے؟"بچے نے کہا: وہ سوار تو ظالم لوگوں سے تعلق رکھتاہے اور ظالم ہے اور اس لونڈی کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی اور زنا کیا۔ حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔(مسلم۔ کتاب البر والصلۃ باب تقدیم برالوالدین علی التطوع بالصلوٰۃ وغیرھا۔بخاری۔کتاب الانبیاء ۔باب واذکر فی الکتٰب مریم)یہ حدیث ،حدیث جریج کے نام سے مشہور ہے اور اس سے علماء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر اولاد نفلی نماز میں مشغول ہو اور والدین میں سے کوئی اسے پکار ے تو اسے نماز توڑ کر  بھی اس آواز پر لبیک کہنا چاہئے۔اور ان کا حکم بجا لانا چاہئے۔۔۔۔۔رضاعت کی مدت:۔  اس آیت سے نیز سورہ بقرہ کی آیت نمبر 233 سے صراحتاً یہ معلوم ہوتاہے کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دوسال ہے۔اس مدت میں کمی تو ہوسکتی ہے اگر والدین کسی ضرورت کے تحت دوسال سے پہلے دودھ چھڑانا چاہیں تو چھڑا سکتے ہیں۔لیکن اس مدت میں بیشی نہیں ہوسکتی۔نیز سورۂ احقاف کی آیت نمبر 15 میں فرمایا کہ "حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے اس میں بھی علماء نے رضاعت کی مدت دوسال شمار کرکے حمل کی مدت میں کمی کے امکان یعنی چھ ماہ کو بھی ممکن قراردیا ہے ۔لیکن ان سب تصریحات کے باوجود امام ابوحنیفہؒ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت اڑھائی سال قرار دیتے ہیں اور وہ اپنی اس رائے میں منفرد ہیں اور کسی فقہ کے امام نے بھی ان کی تائید نہیں کی۔اور اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ حرمتِ نکاح کا فیصلہ اسی مدت کی صحیح تعیین کی بناپر ہی کیا جاسکتاہے"(تیسیر القرآن)

۔ یہاں ایک چیز یہ بھی قابل غور ہے کہ جہاں تک شکر گزاری اور خدمت کا تعلق ہے اس کی ہدایت تو باپ اور ماں دونوں کے لئے فرمائی ہے لیکن قربانیاں اور جانفشانیاں صرف ماں کی گنائی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا ہے۔ فرمایا ہے حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ‘ (اس کی ماں نے اس کو اٹھایا دکھ کے بعد دکھ جھیل کر اور پھر اس کا دودھ چھڑانا ہوا دو سالوں کے اندر)۔ یہاں حمل، ولادت اور رضاعت تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہے (اگرچہ ولادت کا ذکر غایت و ضاحت کے سبب سے مخدوف ہے) اور ان تینوں ہی کا تعلق ماں سے ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ کے مقابل میں زیادہ ہے۔ اسی پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں نبی ﷺ نے ماں کا حق باپ کے مقابل میں تین درجہ زیادہ قرار دیا ہے۔ ’ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ‘ میں تنبیہ ہے کہ یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ بالآخر سب کو میری ہی طرف پلٹناہے۔ اگر کسی نے میری شکر گزاری اور والدین کے حق میں کوتاہی کی تو وہ میری باز پرس سے نہیں چھوٹ سکتا۔۔۔۔ (تدبر قرآن)

15۔حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں نازل ہوئی۔ میں اپنی والدہ کا بڑا فرمانبردار اور اطاعت گزارتھا۔اس کی خدمت اور دلجوئی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتاتھا۔اللہ تعالی نے جب مجھے نعمت ِ ایمان سے مشرف کیا تو میری ماں سخت برافروختہ ہوئی۔مجھے کہنے لگی اے سعد!تم نے یہ کیاحرکت کی ہے۔اگر تونے اس نئے دین کو نہ چھوڑا تو میں کھانا پینا بند کردوں گی،یہاں تک کہ مرجاؤنگی اور لوگ تجھے اپنی ماں کا قاتل کہہ کرعار دلائیں گے اور تو ملک بھر میں رسواہوگا۔میں نے کہا امّاں !ایسا نہ کرو۔میں کسی قیمت پر بھی اپنا دین نہیں چھوڑوں گا، لیکن وہ بضد رہی۔دن بھر نہ کچھ کھایا اور نہ پیا۔رات بھی یوں ہی گزار دی۔جس کے باعث وہ بہت کمزور ہوگئی۔دوسرا دن اور رات اس نے فاقہ سے گزاردیا ۔اب تو اس کی کمزوری حد کو پہنچ گئی ۔جب میں نے اس کی یہ ضد دیکھی تو میں نے کہا "اے ماں تو خوب جان لے اگر تیری سوجانیں ہوں اور سب ایک ایک کرکے نکل جائیں تو خدا کی قسم میں اپنے دین کو پھر بھی نہیں چھوڑوں گا۔اب تیری مرضی ہے توکھا اور نہیں ہے تو بے شک نہ کھا ،میں اپنا دین چھوڑنے کیلئے کسی قیمت پر تیار نہیں۔میراعزم صمیم دیکھ کر بھوک ہڑتال ختم کردی۔اللہ تعالیٰ دین حق پر ہمیں بھی اس قسم کی استقامت عطا فرمائے۔آمین۔(ضیاء القرآن)

16۔ تضمین کے بعد لقمان کی نصیحت دوبارہ شروع ۔توحید کے بعد دوسرا  بنیادی عقیدہ آخرت ہے۔(تدبر قرآن)

17۔وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ۔ یہ خدا ہی کی شکر گزاری کا دوسرا پہلو ہے جو بندے کو خلق سے مربوط کرتاہے ۔نماز بندے کو رب سے جوڑتی ہے اور امر بالمعروف کے ذریعے سے وہ اللہ کے بندوں سے جڑتا ہے (اور بندوں کو اللہ سے جوڑتاہے)معروف میں وہ تمام کام شامل ہیں جوادائے حقوق سے متعلق ہیں مثلاً اللہ کے راہ میں انفاق، یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں  اور دوسرے مستحقین کی مدد اور اس نوع کے دوسرے کام جو ہر اچھی سوسائٹی میں معلوم و معروف ہیں اور جن کا اہتمام ہر وہ شخص کرتاہے اور اس کو کرنا چاہئیے جو اپنے رب کا شکر گزار بندہ ہے۔          ۔۔۔۔۔ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ۔ یہ ان چیزوں سے باز رکھنے کی ہدایت ہے جو معروف کی ضد ہیں ،بخیلی ، غصبِ حقوق، تعدی، عہد شکنی، فخرو غرور اور اس قبیل کی ساری چیزیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔۔۔۔۔اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۔ یہ کام نیم دلی اور ڈھیلے ڈھالے ہاتھوں سے انجام نہیں پاتے ۔پوری عزیمت ۔سردھڑ کی بازی لگانے والے۔(تدبر قرآن)

18۔ صعر اونٹ کی ایک بیماری ہے جس سے اس کی گردن مڑجاتی ہے جیسے لقوہ میں چہرہ ٹیڑھا ہوجاتاہے ۔مراد اس سے رخ پھیرلینا ہے۔مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی ملاقات اور گفتگو میں ان سے منہ پھیر کر گفتگو نہ کرو۔(معارف القرآن)

- اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے موجبات بیان ہوئے ہیں اب یہ ان باتوں کا ذکر آرہاہے جو اس شکر گزاری کے منافی ہے جو لوگ سفلہ اور کم ظرف ہوتے ہیں وہ نعمت پاکر اکڑنے اور اترانے والے بن جاتے ہیں اور کمتر لوگوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔(تدبر قرآن)

19۔ اوپر کی باتیں نہی کے اسلوب میں ہیں ۔ اب تواضع و فروتنی کی تعلیم مثبت انداز میں دی ہے ۔چال میں اکڑ کی بجائے فروتنی و تواضع اور اپنی آواز میں کرختگی اور خشونت کی جگہ نرمی پیدا کرو ۔جب خالق نے انسان کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ آواز کو پست بھی کرسکتاہے تو گدھے کی طرح اپنا حلق اور لوگوں کے کان پھاڑ نے کی کوشش نہ کرے۔یہ بلبل کی بدقسمتی ہے کہ وہ زاغ و زغن کی ہمنوائی کرے۔(تدبر قرآن)

ــــ حضورؐ کا شانداراخلاق:۔  شمائل ترمذی میں حضرت حسین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی المرتضیٰ سے دریافت کیا کہ آنحضرتؐ جب لوگوں کے ساتھ بیٹھتے تھے تو آپ کا کیا طرز ہوتاتھا۔ انہوں نے فرمایا۔رسول اللہ ہمیشہ خوش و خرم معلوم ہوتے تھے آپؓ کی طبیعت سخت نہ تھی،بات بھی درشت نہ تھی۔آپ نہ شور مچانے والے تھے نہ فحش گو تھے۔نہ کسی کو عیب لگاتے تھے نہ بخل کرتے تھے، جو چیز دل کو نہ بھاتی اس کی جانب سے غفلت برتتے تھے ۔مگر دوسرے کو اس کی طرف سے ناامید بھی نہ کرتے تھے۔جو چیز اپنی مرغوب نہ ہو دوسرے کے حق میں اس کی کاٹ نہ کرتے تھے۔تین چیزیں آپ نے بالکل چھوڑ رکھی تھیں۔(i) جھگڑنا(ii) تکبر کرنا(iii) جوچیز کام کی نہ ہو اس میں مشغول ہونا۔(معارف القرآن)


تیسرا رکوع

 اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ﴿20﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ ﴿21﴾ وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ ﴿22﴾ وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿23﴾ نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ ﴿24﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿25﴾ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ﴿26﴾ وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴿27﴾ مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ ﴿28﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴿29﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠   ۧ ۧ ﴿30ع لقمان 31﴾
20. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کر دیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن۔ 21. اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟)۔ 22. اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کردے اور نیکوکار بھی ہو تو اُس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی۔ اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے۔ 23. اور جو کفر کرے تو اُس کا کفر تمہیں غمناک نہ کردے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم اُن کو جتا ئیں گے۔ بیشک خدا دلوں کی باتوں سے واقف ہے۔ 24. ہم اُن کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے۔ 25. اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے۔ 26. جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے۔ بیشک خدا بےپروا اور سزا وارِ حمد (وثنا) ہے۔ 27. اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔ 28. (خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جِلا اُٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اُٹھانے) کی طرح ہے۔ بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے۔ 29. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ 30. یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے۔

تفسیر آیات

20۔ظَاهِرَة۔وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک حواس سے ہوتاہے۔۔۔۔۔بَاطِنَة۔وہ تکوینی نعمتیں جن کا ادراک عقل سے ہوتاہے۔۔۔۔۔فِی اللّٰهِ ۔اللہ کی ذات و صفات کے باب میں۔(تفسیر ماجدی)

۔کسی چیز کو کسی کے لیے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ چیز اس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے اور جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ دوسری یہ کہ اس چیز کو ایسے ضابطہ کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت اس شخص کے لیے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

22۔ احسان کے معنی کسی کام کو کمال درجہ خوبی و اخلاص کے ساتھ کرنے کے آتے ہیں۔اس قید کے لگ جانے سے لفظ اسلام کا مفہوم یہاں متعین ہوگیا کہ آدمی خدا کی طرف متوجہ ہواور کمال درجہ خوبی و یکسوئی اور پوری وفاداری و جانثاری  کے ساتھ۔(تدبرقرآن)

- مُحْسِن۔احسان سے ہے ۔احسان کی تشریح حدیث جبرئیل میں مذکور ہے۔حضرت جبریل بارگاہِ رسالت میں زانوشکستہ باادب بیٹھے ہیں اور سوال پوچھ رہے ہیں۔ان میں ایک سوال یہ تھا ۔اے اللہ کے رسول ! احسان کا کیا مطلب ہے۔ فرمایا احسان اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروگویا تم اس کے نورِ جمال کا مشاہدہ کررہے ہو اور اگر تمہاری اس منزل پررسائی نہیں تو کم از کم یہ تصور تو پختہ ہوکہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۔(ضیاء القرآن)


چوتھا رکوع

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ﴿31﴾ وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ ﴿32﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ﴿33﴾ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠   ۧ ۧ ﴿34ع لقمان 31﴾
31. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں۔ 32. اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔ پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں۔ 33. لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے۔ 34. خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔

تفسیر آیات

31۔۔۔۔اسی طرح آدمی امن و اطمینان کی حالت میں چاہے کیسا ہی سخت دہریہ یا کٹر مشرک ہو، لیکن سمندر کے طوفان میں جب اس کی کشتی ڈولنے لگتی ہے اس وقت دہریے کو بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ خدا ہے، اور مشرک بھی جان لیتا ہے کہ خدا بس ایک ہی ہے۔ (تفہیم القرآن)

32۔ یہ دو صفات ان دو صفتوں کے مقابلے میں ہیں جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں کیا گیا تھا۔ غدار وہ شخص ہے جو سخت بےوفا ہو اور اپنے عہد و پیماں کا کوئی پاس نہ رکھے۔ اور ناشکرا وہ ہے جس پر خواہ کتنی ہی نعمتوں کی بارش کردی جائے وہ احسان مان کر نہ دے اور اپنے محسن کے مقابلے میں سرکشی سے پیش آئے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

33۔  یعنی دوست، لیڈر، پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے۔ مگر وہاں حالت یہ ہوگی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اسکے گناہ میں مجھے پکڑ لیا جائے، اور باپ کی شامت آرہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوگی کہ اس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے۔۔۔ ۔(تفہیم القرآن)

 34۔ پانچ چیزیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں (i)قیامت (ii) بارش کا اترنا (iii) حاملہ کے پیٹ میں کیاہے؟ (iv)کل کیا ہونے والا(v)کسی کو موت کب آئیگی۔۔۔۔۔امام مالک کو خواب میں پانچ چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے کسی شاگرد کو ایک مشہور معبر کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا کہ جس کو یہ خواب آیا ہے وہ خود آئے یا اپنا نام بتائے ۔ شاگرد نے امام صاحب سے اجازت لے کر نام بتایا تو معبر نے مندرجہ بالا پانچ چیزوں کا ذکر کیا۔(انوار القرآن)

ـــــ  آیت کا حاصل یہ ہواکہ علم غیب، یعنی ہرشے کا علم بلاواسطہ،اور جملہ جزئیات کا علم محیط،صرف حق تعالیٰ کو حاصل ہے، کوئی بھی اس وصف میں اس کا شریک نہیں۔۔۔۔یہ پانچ مسئلے صرف بطور مثال اور نمونے کے بیان ہوئے ہیں،اور ان کی تخصیص کی کھلی ہوئی وجہ یہ ہے،جیساکہ شانِ نزول کی روایتوں میں متعدد طریقوں سے آیا ہے کہ رسول اللہؐ کی خدمت میں سوال انہی پانچ مسئلوں کی بابت پیش کیا گیا تھا۔۔۔۔لیکن ان پانچ میں سے بھی قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ بندوں سے نفی صرف دوعلموں کی کی ہے،جن کا تعلق تمام تر مستقبل سے ہے۔(تفسیر ماجدی)